Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Tuesday, August 25, 2026

وہ دن جب تمہیں اپنی حقیقت معلوم ہوگی

#موت_کی_حقیقت
#آخرت_کی_فکر
#اعمال_کا_حساب

وہ دن جب تمہیں اپنی حقیقت معلوم ہوگی
تحریر فیصل مقصود 

تمہیں اپنی اہمیت کا اندازہ شاید اس دن ہوگا جب تمہارا جسم تمہارے اختیار سے باہر ہو جائے گا۔ وہ جسم جسے تم نے ساری زندگی سنوارا، سجایا، آرام دیا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑایا، ایک دن تمہارے اپنے اختیار میں نہیں رہے گا۔ تمہارا لباس اتارا جائے گا، تمہیں غسل دیا جائے گا، سفید چادر میں لپیٹا جائے گا اور تمہیں اس سفر پر روانہ کیا جائے گا جہاں تمہارے ساتھ تمہاری دولت، شہرت، عہدہ، طاقت اور تعلقات میں سے کچھ بھی نہیں جائے گا۔

تم اس قدر بےبس ہو چکے ہوگے کہ اگر ایک مکھی تمہارے چہرے پر آ بیٹھے تو اسے اڑانے کا اختیار بھی تمہارے پاس نہیں ہوگا۔ جن ہاتھوں سے تم دنیا بھر کے کام کرتے تھے، وہ بےحرکت پڑے ہوں گے۔ جن قدموں سے تم اپنی منزلیں تلاش کرتے تھے، وہ دوسروں کے سہارے اٹھائے جا رہے ہوں گے۔ لوگ تمہارے جسم کو اٹھا کر اس مقام کی طرف لے جا رہے ہوں گے جہاں تمہیں تمہاری دنیا سے جدا اور تمہارے انجام کے قریب کر دیا جائے گا۔

ہاں، وہی انجام جس کے لیے تم نے دنیا میں اچھے یا برے اعمال کیے، لوگوں کے ساتھ بھلائی یا برائی کی، کسی کا حق ادا کیا یا مارا، کسی کے دل کو سکون دیا یا اسے دکھ پہنچایا۔ اللہ کے احکامات پر عمل کیا یا اپنی خواہشات کو ان پر ترجیح دی۔ اس دن تمہارے پاس اپنے کیے کو بدلنے کا اختیار نہیں ہوگا، صرف اسے دیکھنے اور اس کا سامنا کرنے کی بےبسی ہوگی۔

پھر لوگ تمہیں اپنے کاندھوں پر اٹھا کر لائیں گے، چند لمحے تمہارے گرد کھڑے ہوں گے، دعائیں کریں گے، آنکھیں نم ہوں گی اور پھر تمہیں منوں مٹی تلے دفن کر کے واپس لوٹ جائیں گے۔ جو لوگ تمہیں قبر تک چھوڑنے آئے تھے، وہ بھی اپنی زندگیوں کی طرف واپس چلے جائیں گے۔ تمہاری آواز، تمہاری گفتگو، تمہاری خواہشیں، تمہارے منصوبے اور تمہاری دنیاوی مصروفیات سب وہیں ختم ہو جائیں گی۔

تمہارے جانے کے بعد لوگ تمہیں تمہارے اعمال سے یاد کریں گے۔ کوئی تمہاری نیکیوں کا ذکر کرے گا، کوئی تمہاری محبت اور خلوص کو یاد کرے گا، کوئی تمہاری اچھی کوششوں کو بیان کرے گا، مگر کوئی تمہارے ظلم، رویوں اور برائیوں کو بھی نہیں بھولے گا۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے مگر اس کے اعمال لوگوں کی یادوں میں کچھ وقت تک زندہ رہتے ہیں۔

پھر وہی لوگ جنہیں تم سمجھتے تھے کہ تمہارے بغیر ان کی دنیا رک جائے گی، اپنی زندگی میں واپس لوٹ جائیں گے۔ کہیں تمہارے نام پر کھانا ہوگا، کہیں کھانے کی تقسیم پر اختلاف ہوگا، کوئی خوشی سے کھائے گا، کوئی منہ بسورے گا، کوئی گوشت کے ٹکڑوں پر الجھے گا اور کوئی تمہاری موت کے چند دن بعد ہی اپنی دنیا کی مصروفیات میں گم ہو جائے گا۔ تمہاری بیوی، بچے اور قریبی لوگ کچھ ہفتے، کچھ مہینے، شاید کچھ سال تمہیں یاد کر کے روئیں گے، پھر زندگی انہیں بھی اپنے ساتھ بہا لے جائے گی۔

ایک وقت آئے گا جب تمہارا وجود صرف ایک داستان بن کر رہ جائے گا۔ تمہارا نام کسی گفتگو میں آئے گا، کوئی تمہاری کوئی عادت یاد کرے گا، کوئی تمہارا کوئی اچھا واقعہ سنائے گا، کوئی تمہاری غلطی بیان کرے گا اور پھر گفتگو بدل جائے گی۔ جس وجود کو تم ساری زندگی سب سے زیادہ اہم سمجھتے رہے، دنیا اس کے بغیر چلتی رہے گی۔

تمہیں لگتا تھا تم بہت اہم ہو، وقت تمہارا محتاج ہے، تمہارا ہنسنا، تمہارا روٹھنا، تمہارا ملنا، تمہارا آنا اور تمہارا جانا سب کچھ بہت معنی رکھتا ہے۔ مگر ایک دن تم جان لو گے کہ دنیا کسی ایک شخص کے لیے نہیں رکتی۔ یہاں ہر شخص اپنے حصے کا سفر مکمل کرتا ہے اور پھر خاموشی سے رخصت ہو جاتا ہے۔

تب شاید تمہیں سمجھ آئے گا کہ زندگی میں اصل اہمیت اس بات کی نہیں تھی کہ تم نے کتنا جمع کیا، کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھا، کتنی شہرت حاصل کی یا کتنے لوگوں نے تمہیں اہم سمجھا؛ اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ تم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر گئے۔ کتنے دل جوڑ کر گئے، کتنے دکھ کم کر کے گئے، کتنے حقوق ادا کیے اور کتنے لوگوں کے لیے تمہارا وجود رحمت بن سکا۔

اسی لیے زندگی کو صرف اپنے لیے مت جیو۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے ہمیشہ کے لیے اپنا نہ سمجھو۔ مال ہے تو اس میں دوسروں کا حصہ نکالو، علم ہے تو آگے پہنچاؤ، اختیار ہے تو انصاف کرو، محبت ہے تو بانٹو، اور زندگی ہے تو اسے ایسے اعمال میں صرف کرو جن کا فائدہ تمہارے بعد بھی باقی رہے۔

کیونکہ آخرکار سب نے جانا ہے، سب نے مٹی میں اترنا ہے، سب نے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ کوئی خالی ہاتھ جائے گا اور کوئی اپنے ساتھ اپنے اعمال لے جائے گا۔

بھلا وہی ہے جو جانے کے ارادے سے دنیا میں آیا،
وہی اپنا تھا جو بانٹ کے آگے پہنچایا۔
جو ملا تھا اسے دنیا ہی میں چھوڑ جانا ہے،
جو کمایا ہے وہ اعمال میں نظر آنا ہے۔
اب پچھتانے سے آخر کیا فائدہ ہوگا،
مر کے مٹی میں تو ہر شخص جا ملا ہوگا۔
اب تو فکر ہو زندوں کو اپنی منزل کی،
ورنہ دہرائے گا ان پر بھی یہ دن کبھی۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp