Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Sunday, September 6, 2026

جو ہونا ہے، اسے ہونے دو

#قبولیت_اور_ضبط
#زندگی_کے_تلخ_سچ
#خاموش_مزاحمت

جو ہونا ہے، اسے ہونے دو
تحریر فیصل مقصود 

انسان کے اندر جب طوفان اٹھتا ہے اور سامنے والا اسے سمجھنے سے عاری ہو جائے تو ایک وقت آتا ہے جب انسان کو شور سے زیادہ خاموشی عزیز ہو جاتی ہے۔ پھر چیخنے، رونے، لڑنے یا کہیں دور بھاگ جانے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے فرار ممکن نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری طرف آتی ہیں، تم انہیں روک نہیں سکتے، اور تمہاری بے بسی تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہیں یہ سکھاتی رہتی ہے کہ ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خاموش ہو جانا ہی آخری مزاحمت ہوتا ہے؛ موت سی خاموشی، طوفان سے پہلے کی خاموشی، جیسے انسان نے شور کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ اپنی بے بسی کو تسلیم کر لیا ہو۔

ہماری سب سے بڑی اذیت اکثر مصیبت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ضد ہوتی ہے کہ مصیبت ہماری مرضی کے مطابق کیوں نہیں ٹل رہی۔ ہم ان چیزوں کو بدلنے میں اپنی جان کھپا دیتے ہیں جن پر ہمارا اختیار ہی نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کو بدلنا ہمارے بس میں نہیں، جن حالات کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں، جن فیصلوں کا رخ ہم موڑ نہیں سکتے، ان کے خلاف اندر ہی اندر جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ پھر خود ہی ٹوٹتے ہیں، خود ہی گھٹتے ہیں اور آخر میں خود ہی پوچھتے ہیں کہ سکون کہاں چلا گیا؟ سکون کہیں نہیں گیا ہوتا، ہم نے اسے ایسی جگہ تلاش کیا ہوتا ہے جہاں وہ موجود ہی نہیں تھا۔

فرض کرو تمہیں معلوم ہو کہ ایک مصیبت تمہاری طرف آ رہی ہے۔ تم جانتے ہو کہ نہ تم اس سے بھاگ سکتے ہو، نہ اسے روک سکتے ہو، نہ کوئی ایسا دروازہ ہے جس کے پیچھے چھپ کر تم اس سے بچ جاؤ گے۔ پھر کیا ساری زندگی اس کے آنے کے خوف میں جلتے رہو گے؟ یا ایک دن اپنے اندر بیٹھ کر یہ فیصلہ کرو گے کہ جو ہونا ہے، اسے ہونے دو؛ میں کم از کم اس کے آنے سے پہلے خود کو تو نہیں ماروں گا۔

محاذ پر کھڑا سپاہی بھی جانتا ہے کہ موت کہیں بہت دور نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے سامنے جو میدان ہے، وہاں کسی لمحے کوئی گولی اس کے نام کی بھی ہو سکتی ہے۔ مگر وہ ہر لمحہ موت سے بحث نہیں کرتا۔ وہ موت کے امکان کو تسلیم کرکے اپنی جگہ کھڑا رہتا ہے۔ شاید زندگی بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ہر خطرے کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کچھ خطرات کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔ ہر زخم کو روکا نہیں جا سکتا، کچھ زخموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہر نقصان سے بچا نہیں جا سکتا، کچھ نقصانات کے بعد انسان کو خود اپنے ملبے سے اٹھنا پڑتا ہے۔

تو زندگی کی ہر مصیبت سے لڑنے کی ضد چھوڑ دو۔ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی خواہش آخرکار انسان کو حالات سے زیادہ خود اپنے اندر سے زخمی کرتی ہے۔ کچھ لوگ تمہیں سمجھیں گے ہی نہیں، کچھ رشتے تمہاری سچائی کے باوجود نہیں بچیں گے، کچھ دروازے تمہارے پوری قوت سے دھکیلنے کے باوجود نہیں کھلیں گے، اور کچھ فیصلے تمہارے حق میں کبھی نہیں ہوں گے۔ ہر بار چیخنا، ہر بار وضاحت دینا، ہر بار خود کو درست ثابت کرنا ضروری نہیں۔

کبھی کبھی خاموشی اس اعتراف کا نام ہوتی ہے کہ ہاں، میں جان گیا ہوں؛ یہ میرے اختیار میں نہیں۔

اور شاید یہی ضبط کی آخری حد ہے کہ انسان اپنے دل کو سمجھا دے کہ ہر چیز کا انجام وہ نہیں ہوگا جو وہ چاہتا ہے۔ کچھ چیزیں چھنیں گی، کچھ لوگ بدلیں گے، کچھ خواب دفن ہوں گے، کچھ سوال بے جواب رہیں گے اور کچھ درد ایسے ہوں گے جن کا کوئی مرہم نہیں ہوگا۔ مگر زندگی پھر بھی تم سے ایک ہی مطالبہ کرے گی: اٹھو اور چلو۔

کیونکہ زندگی کا سب سے تلخ سچ یہ نہیں کہ مصیبتیں آتی ہیں؛ اصل سچ یہ ہے کہ تم چاہو یا نہ چاہو، کچھ مصیبتیں آ کر رہیں گی۔

اس لیے جو تمہارے اختیار میں نہیں، اسے اپنے سینے میں قیامت بنا کر مت رکھو۔
اسے تسلیم کرو۔

مان جاؤ کہ سب کچھ تمہاری مرضی سے نہیں چلے گا۔
مان جاؤ کہ کچھ چیزیں ایسے ہی ہوں گی۔
مان جاؤ کہ کچھ درد تمہیں برداشت کرنے پڑیں گے۔
اور پھر بھی جینا ہے۔

کیونکہ بعض اوقات فتح یہ نہیں ہوتی کہ تم نے طوفان کو روک لیا؛
فتح یہ ہوتی ہے کہ طوفان کو آتے دیکھ کر بھی تم نے خود کو بکھرنے نہیں دیا۔

بس اتنا سیکھ لو؛
جو ہونا ہے، اسے ہونے دو…
تم ہر چیز کو نہیں روک سکتے، مگر خود کو ٹوٹنے سے ضرور بچا سکتے ہو۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp