Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Friday, June 5, 2026

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا ضمیر، گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

"میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا"

تحریر
ملک فیصل اعوان

آج پاکستان کا عام شہری ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں جینا دن بدن مشکل اور زندگی ایک مسلسل آزمائش بنتی جا رہی ہے۔ ہر نیا دن ایک نئی مہنگائی، ایک نئے ٹیکس اور ایک نئے معاشی بوجھ کی خبر لے کر آتا ہے۔ بجلی کے بل، گیس کے بل، پانی کے بل، سیوریج کے اخراجات، کچرے کی فیس، پیٹرول پر ٹیکس، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور روزمرہ زندگی کے بے شمار اخراجات نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ریاست کو ہمیشہ ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ماں اپنے بچوں کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتی ہے اور مشکل وقت میں ان کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھتی ہے۔ مگر آج ایک غریب پاکستانی یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں ہے تو پھر یہ ماں اپنے ہی بچوں پر اتنی سخت کیوں ہو گئی ہے؟ کیا اسے ان گھروں سے اٹھنے والی آہیں سنائی نہیں دیتیں جہاں رات کو والدین اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکنے کے باعث پریشان سو جاتے ہیں؟ کیا اسے وہ آنسو نظر نہیں آتے جو مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے عوام کی آنکھوں سے بہہ رہے ہیں؟

آج ایک عام مزدور، ایک پرائیویٹ ملازم، ایک چھوٹا دکاندار یا ایک کلرک اگر 30 یا 40 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے اور روزانہ صرف 500 روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے تو مہینے کے تقریباً 15 ہزار روپے صرف آمدورفت پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد بچنے والی رقم سے وہ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، دوائیاں، راشن اور دیگر ضروریات کیسے پوری کرے؟ یہ سوال کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کی مشترکہ فریاد ہے۔

مہنگائی کا یہ طوفان صرف بازاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر گھر کی دہلیز عبور کر چکا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، دودھ، گوشت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ تنخواہیں وہیں کھڑی ہیں لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ متوسط طبقہ غریب بنتا جا رہا ہے اور غریب طبقہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔

جس شخص نے بجلی کے مہنگے بلوں سے بچنے کے لیے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کیا، وہ بھی اب مختلف قسم کے اضافی چارجز اور پالیسیوں کے خدشات کا شکار ہے۔ عوام کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بچت کا جو راستہ وہ اختیار کرتے ہیں، کچھ عرصے بعد اسی راستے پر بھی نئے بوجھ ڈال دیے جاتے ہیں۔

عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں کہ قربانی صرف عام آدمی ہی کیوں دے؟ جب بجٹ خسارے کی بات ہوتی ہے، جب معاشی مشکلات کا ذکر ہوتا ہے، تو بوجھ ہمیشہ عوام پر ہی کیوں منتقل کیا جاتا ہے؟ کیا حکمران طبقہ، وزراء، مشیران، اعلیٰ بیوروکریسی اور مراعات یافتہ حلقے بھی اسی طرح قربانی دیتے ہیں؟

عوام کے ذہن میں یہ سوال شدت سے موجود ہے کہ منتخب نمائندوں، وزراء اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو حاصل مراعات، سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، رہائش گاہیں، ایندھن، سفری سہولتیں اور دیگر اخراجات میں کمی کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر واقعی کفایت شعاری وقت کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے، نیچے سے نہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے نظام میں بعض مراعات اور سہولتوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ قومی وسائل کا زیادہ حصہ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے تاکہ ہر شہری کو محسوس ہو کہ اس کے دیے گئے ٹیکس کا فائدہ اسے بھی پہنچ رہا ہے۔

انتخابی مہمات میں عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ سستی بجلی، روزگار، ریلیف، ترقی اور خوشحالی کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ بعض وعدے ایسے بھی کیے گئے جن میں عوام کو بجلی کے حوالے سے خصوصی ریلیف دینے کی بات کی گئی، لیکن آج عام آدمی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان وعدوں کا کیا ہوا؟ وہ وعدے جو عوام کی امید بنے تھے، وہ عملی شکل کیوں اختیار نہ کر سکے؟

غریب آدمی کتنی امیدوں کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ وہ جلسوں میں جاتا ہے، انتخابی نعروں پر یقین کرتا ہے، بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، اپنے پسندیدہ امیدواروں کے لیے وقت اور وسائل صرف کرتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار اس کے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن انتخابات کے بعد جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے، جب بل کم ہونے کے بجائے مزید زیادہ آنے لگیں اور جب زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے تو مایوسی جنم لینا فطری بات ہے۔

ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کی بنیاد پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام نے تبدیلی کی امید میں نئے فیصلے کیے، نئی قیادتوں کو موقع دیا اور نئے وعدوں پر اعتماد کیا۔ لیکن آج بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مہنگائی، پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہو رہے ہیں اور وہ اپنی مشکلات کے حل کے منتظر ہیں۔

ایک جمہوری معاشرے میں شہریوں کا حق ہے کہ وہ سوال کریں، اپنی رائے کا اظہار کریں اور اپنے مسائل حکمرانوں تک پہنچائیں۔ عوام کی آواز سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ہی مضبوط ریاستوں کی پہچان ہوتا ہے۔ جب عوام خود کو سنا ہوا محسوس کرتے ہیں تو ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت اس کے محلات، پروٹوکول یا سرکاری قافلے نہیں بلکہ اس کے کروڑوں محنت کش شہری ہیں۔ یہی مزدور، کسان، اساتذہ، دکاندار، ملازمین اور کاروباری افراد ملک کا پہیہ چلاتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ پریشان اور مایوس ہو جائے تو معاشی ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

عوام کسی عیاشی کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں عزت کے ساتھ جینے دیا جائے، ان کی محنت کا مناسب صلہ ملے، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو، ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور ان کی کمائی صرف بلوں اور ٹیکسوں کی نذر نہ ہو جائے۔

آخر کب تک عوام ہی ہر معاشی بحران کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟آخر کب تک قربانی کا مطالبہ صرف عام آدمی سے کیا جاتا رہے گا؟آخر کبھفجفجفج وہ وقت آئے گا جب ریاست اپنے شہریوں کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھے گی؟

یہ سوال صرف ایک فرد کے نہیں، بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی آواز ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp