Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Monday, September 7, 2026

وہ زخم جن پر اپنوں کی مہربانی ہے

#دھوکہ #اعتماد #اپنوں_کا_دیا_دکھ

وہ زخم جن پر اپنوں کی مہربانی ہے
تحریر فیصل مقصود 

میں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا: "دھوکہ جتنا قریبی دے گا، اس کی تکلیف بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔" اس جملے کی جتنی گہرائی میں جائیں گے، بات اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی، کیونکہ دھوکے کی شدت صرف اس نقصان سے طے نہیں ہوتی جو تمہیں پہنچا، بلکہ اس فاصلے سے طے ہوتی ہے جہاں سے وہ وار آیا۔ اجنبی تمہیں نقصان پہنچائے تو تم اسے دنیا کا معمول سمجھ کر گزر سکتے ہو، مگر جب کوئی اپنا تمہارے اعتماد کو ہی تمہارے خلاف استعمال کرے تو تکلیف صرف واقعے کی نہیں رہتی، وہ تمہاری سوچ، تمہارے فیصلوں اور انسانوں پر تمہارے یقین تک پھیل جاتی ہے۔

مثال کے طور پر تم نے اپنی زندگی کے فیصلوں کی ڈور کسی اپنے کے اعتبار پر اسی کو تھما رکھی ہو۔ تم نے اسے اپنے گھر، اپنے مال و اسباب، اپنے راز اور اپنی کمزوریوں تک رسائی دی ہو، اس یقین کے ساتھ کہ یہ شخص کبھی تمہارے اعتماد کو تمہارے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ پھر ایک دن وہی شخص تمہارے ساتھ ایسا سلوک کرے جو قصوں، کہانیوں، ناولوں، ڈراموں اور فلموں میں ولن کرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہو کہ وہاں ولن تمہارا دشمن ہوتا ہے اور یہاں دشمن کا کردار وہ شخص ادا کر رہا ہوتا ہے جسے تم نے اپنی زندگی میں دشمن بننے کا حق ہی نہیں دیا تھا۔

ایسے دھوکے کی تکلیف کو کسی پیمانے میں شمار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہاں صرف مال، وقت یا کوئی رشتہ ضائع نہیں ہوتا؛ یہاں انسان اپنے ماضی کے فیصلوں کے سامنے بھی کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسے بار بار خیال آتا ہے کہ میں نے اس شخص پر اعتبار کیوں کیا، میں نے اسے اتنا قریب آنے کیوں دیا، میں نے اس کی بات کو اپنی سمجھ سے زیادہ اہمیت کیوں دی؟ اور یہی وہ مقام ہے جہاں دھوکا دینے والا شخص صرف تمہیں نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ تمہیں کچھ عرصے کے لیے اپنے ہی فیصلوں کا ملزم بنا دیتا ہے۔

یہ ایسے ہے جیسے تم دشمن کے مقابلے میں سینہ تان کر کھڑے ہو اور تمہیں زخمی کرنے والا نشتر دشمن کی طرف سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی صفوں سے چلے، اور وہ بھی انجانے میں نہیں بلکہ جانتے بوجھتے چلایا جائے۔ دشمن کا وار کم از کم متوقع ہوتا ہے؛ اس سے بچنے کے لیے تم تیار رہتے ہو۔ مگر اپنے کا وار وہاں لگتا ہے جہاں انسان نے کبھی ڈھال رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ہوتی۔ دشمن جسم کو زخمی کرتا ہے، اپنا انسان کے اعتماد کو۔ اور اعتماد کا زخم اس لیے زیادہ گہرا ہوتا ہے کہ اسے بھرنے کے لیے صرف وقت نہیں، دوبارہ یقین کرنے کی ہمت بھی چاہیے ہوتی ہے۔

سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہر قریبی شخص مخلص نہیں ہوتا اور ہر محبت تحفظ نہیں دیتی۔ بعض لوگ تمہارے قریب اس لیے نہیں ہوتے کہ وہ تمہیں عزیز رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ قربت انہیں تم تک رسائی دیتی ہے۔ وہ تمہارے اعتماد، تمہاری ضرورت، تمہاری کمزوری اور کبھی کبھی تمہاری محبت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انسان اکثر دھوکے کے بعد یہ سیکھتا ہے کہ اچھا ہونا اور لوگوں کو بےحساب اختیار دے دینا دو الگ چیزیں ہیں؛ محبت اپنی جگہ، مگر عقل کا دروازہ بند کر دینا محبت نہیں، خود اپنے خلاف گواہی ہے۔

اور اپنوں کے دیے ہوئے دکھ کی ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ انسان اس سے باہر تو نکل آتا ہے، مگر اس سے پہلے والا انسان نہیں رہتا۔ وقت گزر جاتا ہے، گفتگو معمول پر آ جاتی ہے، چہرے پر مسکراہٹ واپس آ جاتی ہے، مگر اندر کہیں ایک خاموش احتیاط جنم لے لیتی ہے۔ پھر کسی نئے شخص پر اعتبار کرتے ہوئے دل پہلے محبت نہیں دیکھتا، پچھلا دھوکا دیکھتا ہے۔ کسی کے اچھے رویے میں بھی ایک دن اچانک بدل جانے کا خدشہ چھپا محسوس ہوتا ہے۔ یوں ایک شخص کا کیا ہوا ظلم کبھی کبھی ان تمام لوگوں کے حصے کا اعتماد بھی چھین لیتا ہے جو اس کے بعد زندگی میں آتے ہیں۔

**شاید اپنوں کے دھوکے کی سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ وہ تم سے صرف کچھ چھین کر نہیں جاتے، وہ تمہارے اندر موجود ایک یقین بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ دشمن کا زخم وقت کے ساتھ مندمل ہو سکتا ہے، مگر اپنے کا دیا ہوا زخم انسان کے رویّوں میں زندہ رہتا ہے؛ وہ ہر نئے تعلق میں احتیاط بن کر، ہر اعتماد میں سوال بن کر، اور ہر محبت میں ایک خوف بن کر واپس آتا ہے۔ کچھ زخم خون نہیں بہاتے، مگر زندگی کی آخری سانس تک رستے رہتے ہیں۔ اور شاید انسان کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہر اپنا، اپنا نہیں ہوتا؛ کچھ لوگ صرف اتنے قریب آتے ہیں کہ تمہیں وہاں سے توڑ سکیں جہاں تک کسی اجنبی کی رسائی کبھی نہیں ہو سکتی۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp