Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Monday, June 8, 2026

نعمت کی سب سے بڑی حفاظت شکر ہے، اور حسرت کی سب سے بڑی وجہ غفلت!

انسان کم عقل ہے۔ جب اس کے پاس نعمتیں موجود ہوتی ہیں تو وہ انہیں اپنی قابلیت، محنت یا قسمت کا معمولی سا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے، مگر جب وہی نعمت اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ دراصل کتنی قیمتی تھی۔

صحت ہو تو انسان راتوں کو جاگ کر اپنے جسم پر ظلم کرتا ہے، لیکن جب بیماری بستر سے لگا دیتی ہے تو ایک لمحے کی تندرستی بھی خزانے سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ والدین ساتھ ہوں تو ان کی باتیں نصیحت نہیں، مداخلت لگتی ہیں، مگر جب ان کی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں تو انسان عمر بھر ایک دعا، ایک نصیحت اور ایک محبت بھری نظر کو ترستا رہتا ہے۔ رزق کی فراوانی ہو تو شکر کے بجائے مزید کی خواہش جنم لیتی ہے، لیکن جب تنگی آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سکون سے کھایا جانے والا ایک نوالہ بھی کتنی بڑی نعمت تھا۔

درحقیقت انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ موجود چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے۔ جو نعمت ہر روز اس کے پاس ہوتی ہے، وہ اسے معمولی لگنے لگتی ہے۔ سورج روز نکلتا ہے تو کوئی اس کے طلوع پر حیران نہیں ہوتا، لیکن اگر ایک دن روشنی نہ ہو تو دنیا اندھیرے کی قیمت جان لے۔ اسی طرح زندگی کی بے شمار نعمتیں بھی ہماری نظروں میں اس وقت تک عام رہتی ہیں جب تک وہ ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں۔

ناشکری اکثر زبان سے نہیں، نگاہ سے ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی موجودہ نعمتوں پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کی نعمتوں کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل میں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ پھر جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ بھی کم لگنے لگتا ہے۔ یہی ناشکری کا آغاز ہے۔

دانائی یہ نہیں کہ نعمت چھن جانے کے بعد اس کی قدر کی جائے، بلکہ اصل دانائی یہ ہے کہ انسان نعمت کے موجود ہوتے ہوئے اس کا احساس کرے، اس پر شکر ادا کرے اور اسے ضائع ہونے سے پہلے اس کی اہمیت کو سمجھ لے۔ کیونکہ زندگی کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ وقت، صحت، محبت اور اپنے لوگ جب واپس نہیں آتے تو ان کی یاد صرف حسرت بن کر رہ جاتی ہے۔

شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نعمت کی سب سے بڑی حفاظت شکر ہے، اور حسرت کی سب سے بڑی وجہ غفلت۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp